Mohsin Naqvi Poems

mohsin naqvi nazam poetry

Syed Mohsin Naqvi is a great Urdu Poet. His poetry is very popular in Pakistan and India. In this post we have brought Mohsin Naqvi Poems in Urdu. Hope you will enjoy our collection.

1. Tumhen kis ne kaha tha | Mohsin Naqvi Poems

Mohsin Naqvi Poetry

تمہیں کس نے کہا تھا

دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
اور اتنی دیر تک دیکھو
کہ بینائی پگھل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی
بجلیوں سے دوستی کر لو
اور اتنی دوستی کر لو
کہ گھر کا گھر ہی جل جائے
تمہیں کس نے کہا تھا
ایک انجانے سفر میں
اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ
اور اتنی دور تک جاؤ
کہ وہ رستہ بدل جائے

2. Mughe ab dar nahin lgta | Mohsin Naqvi Shayari

Mohsin Naqvi Poetry

مجھے اب ڈر نہیں لگتا

کسی کے دور جانے سے
تعلق ٹوٹ جانے سے
کسی کے مان جانے سے
کسی کے روٹھ جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو آزمانے سے
کسی کے آزمانے سے
کسی کو یاد رکھنے سے
کسی کو بھول جانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کو چھوڑ دینے سے
کسی کے چھوڑ جانے سے
نا شمع کو جلانے سے
نا شمع کو بجھانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
اکیلے مسکرانے سے
کبھی آنسو بہانے سے
نا اس سارے زمانے سے
حقیقت سے فسانے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
کسی کی نارسائی سے
کسی کی پارسائی سے
کسی کی بے وفائی سے
کسی دکھ انتہائی سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
نا تو اس پار رہنے سے
نا تو اس پار رہنے سے
نا اپنی زندگانی سے
نا اک دن موت آنے سے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا

Read Moshin Naqvi 2 lines Urdu Poetry

3. Tumhn Kia | Mohsin Naqvi Shayri

Mohsin Naqvi Poetry

تمہیں کیا

زندگی جیسی بھی ہے
تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر
آئنے چمکے تمہاری دید سے
خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے
اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی
تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں
سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں
تمہیں کیا
تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی
ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ تنہائی کے جنگل میں
سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے
تمہیں کیا
تم نے کب سوچا
کہ چہروں سے اٹی دنیا میں
کس کا دل اکیلا ہے

4. Mere lie kon sochta he | Mohsin Naqvi Shayari

Mohsin Naqvi Poetry

مرے لیے کون سوچتا ہے

جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
خواہشوں کے پنجر
ہوس کے ٹکڑے
حواس ریزے
ہراس کنکر تلاشنا ہیں
سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں
قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے
سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھ
وراثت میں جھیلنا ہے
مرے لئے کون سوچتا ہے
سبھی کی اپنی ضرورتیں ہیں
مری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشے
شفا کی شبنم
مری اداسی کو کون بہلائے
کسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھے
کہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیں
مری مشقت کی شاخ عریاں پر
سازشوں کے عذاب کیوں ہیں
مری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیں
مرے سفر میں سراب کیوں ہیں
مرے لیے کون سوچتا ہے
سبھی کے دل میں کدورتیں ہیں


We hope you loved and enjoyed our collection of Mohsin Naqvi Poems. There is a variety of style and mood in Mohsin Naqvi Shayari. Therefore, he is much popular in Urdu Readers. However, if you like Mohsin Naqvi Poetry, you can read his 2 lines Urdu Poetry, 4 lines Urdu Poetry, Urdu Poems and Best Urdu Ghazal on our website.

Penpowerr.com is a literary blog where you can find your favourite Urdu Poet and read his Best Urdu Shayari. Moreover, we bring a collection of Urdu Shayri, Hindi Shayari, Punjabi Shayri, and English Poetry every day. Therefore, if you are fond of literature, especially poetry, you needn’t go anywhere else, because we offer you the best Urdu Shayri at one place. So, before leaving, we want to know which poem of Mohsin Naqvi did you like most. Don’t forget to drop a comment.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.